
تعارف مدیر دارالفلاح
تعارف مدیر دارالفلاح
حافظ عبدالوحید بن عبدالرشید
دارالفلاح انٹرنیشنل کے بانی و مدیر
کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں، زندگی گزارتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے روشنی چھوڑ جاتے ہیں، ایسی روشنی جو نسلوں تک بجھتی نہیں۔
حافظ عبدالوحید انہی چنیدہ لوگوں میں سے ایک ہیں۔
حافظ عبدالوحید ایک ممتاز دینی، تعلیمی اور دعوتی شخصیت کا نام ہے جن کی پوری زندگی قرآنِ مجید کی تعلیم، علومِ اسلامیہ کی تدریس اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج کے لیے وقف ہے۔
آپ نے اپنی عمر کا ہر لمحہ، ہر صبح اور ہر شام اس ایک مقدس مشن کی نذر کر دی کہ انسانوں کے دلوں کو قرآن و سنت کی روشنی سے منور کیا جائے اور ایمان کی وہ حرارت سینوں میں زندہ رکھی جائے جو ایک مسلمان کی اصل پہچان ہے۔
آپ کا علمی سفر محض کتابوں اور اسناد کے حصول تک محدود نہیں۔
یہ ایک گہری تڑپ کا نام ہے، ایک ایسی تڑپ جو انہیں کبھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔
یہ ایک انتھک جدوجہد کا نام ہے جس کا ہر قدم اس پختہ یقین پر اٹھتا ہے کہ علم جب تک دوسروں تک نہ پہنچے، وہ علم نہیں بلکہ ایک بند خزانہ ہے۔
حافظ عبدالوحید نہ صرف ایک عالم ہیں بلکہ ایک داعی، ایک مربی اور ایک ایسے معلم ہیں
جن کی تعلیم محض ذہنوں کو نہیں بلکہ روحوں کو بھی سیراب کرتی ہے۔
جن کا ہر لفظ دل میں اترتا ہے اور جن کی صحبت انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔
آپ کا واحد نصب العین یہ ہے کہ ہر عام انسان قرآنِ کریم سے جڑ جائے دین کی بنیادی تعلیمات اس کی زندگی کا حصہ بن جائیں اور یہ معاشرہ علم، اخلاق اور ایمان کی مضبوط بنیاد پر استوار ہو۔
یہی وہ جذبہ ہے جو آپ کو ہر صبح ایک نئے عزم اور نئی امید کے ساتھ میدانِ عمل میں کھڑا کرتا ہے اور یہی جذبہ آپ کی شخصیت کو ہزاروں لوگوں کے لیے ایک چراغ بناتا ہے ایک ایسا چراغ جو خود جلتا ہے تاکہ دوسروں کی راہ روشن ہو سکے۔
ابتدائی زندگی اور قرآنی تعلیم
آپ کی پیدائش 2 فروری 1970ء کو لاہور کے معروف علاقے اتحاد کالونی، تاج پورہ روڈ (غازی آباد) میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم کا سلسلہ دارالعلوم اسلامیہ (لائنوں والا مدرسہ)، تاج پورہ روڈ لاہور سے شروع ہوا۔
جہاں علم کی پہلی کرنیں آپ کے ذہن و دل پر پڑیں اور ایک عظیم علمی سفر کی بنیاد پڑی۔
بچپن کی معصوم عمر میں 1978ء میں، آپ نے حفظِ قرآنِ مجید کا مبارک آغاز کیا۔
یہ کوئی معمولی کام نہ تھا بلکہ یہ اس بچے کا اپنے رب کے ساتھ ایک خاص تعلق کی ابتدا تھی۔
چار سال کی مسلسل محنت، لگن اور شب و روز کی ریاضت کے بعد 1982ء کے اوائل میں آپ نے اس عظیم سعادت کی تکمیل کی اور کلامِ الٰہی کو سینے میں محفوظ کر لیا، یہ وہ دولت تھی جو نہ چھنتی ہے، نہ مٹتی ہے۔
دورانِ حفظ آپ کو اپنے وقت کے جید اور نامور قراء کرام کی صحبت اور رہنمائی نصیب ہوئی۔
ان میں قاری سید محمد عبداللہ شاہ (مانسہرہ)، قاری عبدالرشید اور حافظ محمد الیاس جیسے اساطینِ فن شامل ہیں۔
جن کی شاگردی نے آپ کی تلاوت اور قراءت کو نکھارا اور سنوارا۔ انہی بزرگوں کی صحبت نے آپ کے اندر قرآن سے وہ گہرا تعکق پیدا کیا جو آج تک آپ کی زندگی کا محور ہے۔یہ مرحلہ محض حفظ کی تکمیل نہ تھا بلکہ یہ آپ کی پوری شخصیت کی تعمیر کا وہ مضبوط ستون تھا
جس پر آگے چل کر ایک مؤثر، مخلص اور محبوب معلمِ قرآن کی عمارت کھڑی ہوئی۔
علومِ اسلامیہ میں تخصص
حفظِ قرآن کے بعد 1982ء سے آپ نے باقاعدہ طور پر علومِ اسلامیہ کی اعلیٰ تعلیم کا آغاز کیا۔
اس دوران آپ نے مختلف نامور دینی اداروں میں تعلیم حاصل کی، جن میں
جامعہ ضیاء الاسلام، ضلع شیخوپورہ
مدرسہ رحمانیہ (جامعہ لاہور الاسلامیہ)، ہنجروال لاہور
مدرسہ ریاض القرآن والحدیث
جامعہ لاہور الاسلامیہ
خصوصی طور پر قابلِ ذکر یہ ہے کہ 1989ء میں آپ نے تخصص فی علوم الشریعہ کا امتحان نہایت شاندار کارکردگی کے ساتھ مکمل کیا اور اے پلس گریڈ کے ساتھ 93 فیصد نمبر حاصل کر کے اپنی علمی قابلیت اور محنت کا لوہا منوایا۔
یہ نتیجہ محض ایک گریڈ نہ تھا بلکہ برسوں کی ریاضت، لگن اور علمِ دین سے گہری وابستگی کا ثمر تھا۔
بیرونِ ملک علمی تجربہ
آپ کے لیے 1989ء کا سال آپ کی علمی زندگی میں ایک نئے اور یادگار باب کا آغاز لے کر آیا۔
اس سال آپ کو سعودی عرب کی معروف اور باوقار درسگاہ کنگ سعود یونیورسٹی میں داخلے کا شرف حاصل ہوا۔
یہ محض ایک یونیورسٹی میں داخلہ نہ تھا بلکہ یہ اس نوجوان کی علمی لگن اور دینی جذبے کا اعتراف تھا جو سالوں کی محنت کے بعد علم کے اس عالمی مرکز تک پہنچا تھا۔
یہاں آپ نے اللغة العربية والثقافة الإسلامية یعنی عربی زبان و ادب اور اسلامی ثقافت میں دو سالہ تخصص کیا۔
عربی زبان جو قرآنِ کریم کی زبان ہےاسے اس کی اصل گہرائی اور وسعت کے ساتھ سیکھنا آپ کے لیے ایک روحانی تجربہ بھی تھا اور علمی ترقی کا ذریعہ بھی۔
دو سال کی اس انتھک محنت کے بعد آپ نے اعلیٰ درجے میں کامیابی حاصل کی اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ جہاں نیت سچی ہو، وہاں منزل ضرور ملتی ہے۔
اس تجربے نے آپ کی شخصیت کو ہر لحاظ سے نکھارا۔
عرب دنیا کے علمی ماحول میں رہ کر آپ کا علمی افق وسیع سے وسیع تر ہوتا گیاعربی زبان پر آپ کی گرفت مزید مضبوط ہوئی اور اسلامی علوم کی باریکیوں سے آپ کی واقفیت مزید گہری ہو گئی۔
یہ دو سال آپ کی پوری علمی زندگی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جس نے آگے چل کر آپ کو ایک مکمل، پختہ اور بلند پایہ عالمِ دین بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اساتذۂ کرام
آپ نے اپنے علمی سفر میں متعدد جید علماء اور مشاہیر سے استفادہ کیا، جن میں نمایاں نام یہ ہیں:
حافظ ثناء اللہ خان مدنی
مولانا عبدالرحمٰن العظیمی
مولانا خالد سیف شہید
قاری نعیم الحق نعیم
پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی
مولانا عبدالرشید راشد
مولانا عبدالرشید مجاہد آبادی
مولانا عبدالرشید خلیق
اور دیگر ممتاز اساتذہ شامل ہیں۔
تدریسی و دعوتی خدمات
علم حاصل کرنا جتنا بڑا کام ہے، اسے دوسروں تک پہنچانا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔
حافظ عبدالوحید نے یہ ذمہ داری پوری دیانت داری اور خلوص کے ساتھ نبھائی۔ 1991ء میں جامع مسجد توحید، نشتر ٹاؤن لاہور میں ترجمۂ قرآن کی باقاعدہ کلاس کا آغاز کیا گیا اور اس کی تدریسی ذمہ داری آپ کے سپرد کی گئی۔
یہ ایک چھوٹے سے کمرے میں شروع ہونے والا سلسلہ تھا مگر اس میں وہ روشنی تھی جو دلوں کو منور کرتی ہے۔ 35 سے زائد افراد اس کلاس میں شریک ہوئے اور یہ علمی و روحانی سفر ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک بلا ناغہ جاری رہا۔
اس کے بعد آپ نے رک کر نہیں دیکھا۔ مختلف دینی و دعوتی اداروں میں تدریس، خطابت، تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے میدان میں آپ کی خدمات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔
آپ نے جہاں بھی قدم رکھا، علم کی شمع روشن کی اور جہاں بھی بولے، سننے والوں کے دلوں میں دین کی محبت جاگ اٹھی۔
آپ کا اندازِ تدریس ہمیشہ سے سادہ، دلنشین اور عام فہم رہا۔
آپ نے قرآن کی گہری باتوں کو اس آسانی اور محبت سے بیان کیا کہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، عالم ہو یا عام آدمی، ہر کوئی آپ کی بات سمجھتا بھی تھا اور اسے دل میں اتار بھی لیتا تھا۔ یہی وہ خصوصیت تھی جس نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد کو دین کی طرف متوجہ کیا اور ان کی زندگیوں میں ایک مثبت انقلاب برپا کیا۔
دارالفلاح کا قیام
کچھ لوگ صرف خواب دیکھتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے خوابوں کو حقیقت بنا دیتے ہیں۔
حافظ عبدالوحید انہی لوگوں میں سے ہیں۔ 2003ء میں آپ نے ایک عظیم علمی و دعوتی ادارے کی بنیاد رکھی جسے دارالفلاح کا نام دیا گیا۔
یہ محض ایک ادارے کا قیام نہ تھا بلکہ یہ ایک سوچے سمجھے اور مخلصانہ عزم کا اظہار تھا کہ دین کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ گھروں اور دلوں تک پہنچایا جائے۔
بعد ازاں اس ادارے کا نام دارالفلاح انٹرنیشنل رکھا گیا جو اس کی وسعت اور عالمی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
اس ادارے کے قیام کے پیچھے چند بنیادی اور واضح مقاصد تھے۔ پہلا مقصد یہ تھا کہ قرآنِ مجید کی صحیح فہم کو عام کیا جائے تاکہ لوگ محض تلاوت تک محدود نہ رہیں بلکہ قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں اتاریں۔
دوسرا مقصد یہ تھا کہ قرآن و سنت کی عملی تعلیم دی جائے کیونکہ دین صرف کتابوں میں نہیں بلکہ عمل میں زندہ ہوتا ہے۔
تیسرا مقصد معاشرے میں دینی تربیت کو فروغ دینا تھا تاکہ ہر گھر اسلامی اقدار کا مرکز بن سکے۔
اور چوتھا اور انتہائی اہم مقصد یہ تھا کہ نوجوان نسل میں فکری و اخلاقی بیداری پیدا کی جائے کیونکہ آج کا نوجوان ہی کل کا معمارِ قوم ہے۔
آج دارالفلاح انٹرنیشنل ان تمام مقاصد کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک فعال، متحرک اور مؤثر علمی و تربیتی مرکز کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔
یہ ادارہ آپ کی زندگی بھر کی محنت، خلوص اور دینی جذبے کا زندہ ثمر ہے جو ہر روز سینکڑوں افراد کی زندگیوں کو بدل رہا ہے۔
آج دارالفلاح انٹرنیشنل ان تمام مقاصد کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک فعال، متحرک اور مؤثر علمی و تربیتی مرکز کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔
یہ ادارہ آپ کی زندگی بھر کی محنت، خلوص اور دینی جذبے کا زندہ ثمر ہے جو ہر روز سینکڑوں افراد کی زندگیوں کو بدل رہا ہے۔
اس ادارے سے فیض اٹھانے والے افراد آج ملک کے مختلف شہروں میں دین کی خدمت میں مصروف ہیں اور یہی حافظ عبدالوحید کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ایک سچے معلم کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ اس کے شاگرد اس سے آگے نکل جائیں اور اس کا مشن اس کے بعد بھی زندہ رہے۔
دارالفلاح انٹرنیشنل اسی مشن کی روشن علامت ہے۔
تصنیفی خدمات
ایک عالم کا قلم اس کی زبان سے بھی زیادہ دور تک پہنچتا ہے۔
حافظ عبدالوحید نے تدریس و خطابت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیں اور ایسی نصابی و تربیتی کتب تحریر کیں جو آج بھی ہزاروں افراد کی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
قواعد القرآن ایک ایسی علمی کاوش ہے جس میں قرآنِ مجید کو سمجھنے کے بنیادی قواعد و اصول نہایت آسان اور منظم انداز میں بیان کیے گئے ہیں تاکہ ہر پڑھنے والا قرآن کی زبان سے قریب ہو سکے۔
قرآن و سنت اسٹڈی کورس حصہ اول اور حصہ دوم ایک مکمل اور جامع علمی سلسلہ ہے جو طلبہ اور عام قارئین کو قرآن و سنت کی روشنی میں دین کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کراتا ہے۔ یہ دونوں حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک مکمل دینی رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔
چالیس روز قرآن و سنت کے ساتھ اور چالیس روز قرآن کے ساتھ دو ایسی منفرد کتب ہیں جو قاری کو ایک مرتب اور منظم روزانہ کے معمول کے ذریعے قرآن و سنت سے جوڑتی ہیں۔ یہ کتب اس سوچ پر مبنی ہیں کہ اگر انسان صرف چالیس دن خلوص اور لگن کے ساتھ قرآن کے ساتھ وقت گزارے تو اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔
تعلیم و تربیت کورس ایک ایسا جامع نصاب ہے جو نہ صرف علمی بلکہ اخلاقی اور عملی تربیت کا بھی احاطہ کرتا ہے اور پڑھنے والے کو ایک بہتر انسان اور ایک بہتر مسلمان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ تمام کتب حافظ عبدالوحید کی اس سوچ کا عملی اظہار ہیں کہ دین کی تعلیم صرف مدرسوں تک محدود نہ رہے بلکہ ہر گھر میں، ہر دل میں اور ہر ذہن میں اپنی جگہ بنائے۔
یہ کتب آج بھی طلبہ، اساتذہ اور عام قارئین کے لیے قرآن فہمی اور دینی تربیت کا ایک مؤثر، قابلِ اعتماد اور محبوب ذریعہ ہیں۔
مشن اور وژن
حافظ عبدالوحید کی پوری زندگی ایک سوال کا جواب ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ قرآن ہمارے گھروں میں تو موجود ہےمگر کیا ہماری زندگیوں میں بھی موجود ہے؟
یہی وہ سوال ہے جس نے انہیں ہمیشہ بے چین رکھا اور یہی بے چینی ان کے مشن کی روح ہے۔
آپ کا بنیادی مشن یہ ہے کہ قرآنِ مجید کو صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا عملی ہدایت نامہ سمجھا جائے اور اسے معاشرے کے ہر طبقے میں ہر گھر میں اور ہر دل میں نافذ کیا جائے۔
آپ کا یہ یقین ہے کہ جب تک قرآن کا پیغام انسان کے عمل میں نہیں اترتا، اس وقت تک نہ فرد کی اصلاح ممکن ہے اور نہ معاشرے کی۔
آپ کی تمام خدمات، تدریس ہو یا تصنیف، خطابت ہو یا تربیت، ان سب کا محور ایک ہی ہے اور وہ ہے انسان کی فکری، روحانی اور اخلاقی اصلاح۔ آپ چاہتے ہیں کہ انسان سوچنا سیکھے، اپنے رب کو پہچانے، اپنے نفس کو سنوارے اور اپنے معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
حافظ عبدالوحید کا وژن کسی ایک شہر یا ایک ادارے تک محدود نہیں۔
وہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں قرآن کی روشنی ہر گھر کو منور کرے جہاں نوجوان نسل دین سے جڑی ہو، جہاں علم اور عمل ساتھ ساتھ چلیں اور جہاں انسانیت اپنی اصل پہچان یعنی اللہ کی بندگی کی طرف لوٹ آئے۔
یہ وژن ہی وہ طاقت ہے جو انہیں ہر مشکل میں آگے بڑھاتی رہی اور آج بھی ان کے قدموں میں وہی عزم اور ان کی آنکھوں میں وہی روشنی ہے جو دہائیوں پہلے تھی۔

Leave a Reply